Thursday,September 09,2010
 
نواب مرزا خان داغ
داغ کے ہاں جو چيز قاری کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرتي ہے وہ ہے قلعہ معلی کي سولہ آنے خالص زبان کا چٹخارہ،

پیرس : فنڈ ریزنگ افطار ڈنر کا اہتمام
فرانس میں محب وطن پاکستانیوں نے کثیر عطیات دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے دل اپنے پاکستانیوں کے لئے کتنے دھڑکتے ہیں۔

 

 

وزیراعظم کا ناکام دورہ اور تلخ حقائق
2010-06-10 : تاریخ اشاعت
Share with your friends Add Comments
 
وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے برسلز کا اہم دورہ کیا آپ کی مدد نصرت کیلئے کم و بیش 70 سیاحوں کی فوج نے آپ کا ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود بھی بے تماشا مواد چھوڑ کر گئے ہیں عام لوگ تو ایک طرف ممبر یورپین پارلیمنٹ اور فرینڈز آف پاکستان کے سربراہ سجاد کریم صاحب بھی خاصے ناراض نظر آ رہے ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کی جب بھی کوئی حکمران غیر ملکی دورہ کرتا ہے تو اپنے پیچھے بے شمار سوالات، خدشات اور تحفظات چھوڑ جاتا ہے اور لوگ مدتوں اسی کے متعلق تبادلہ خیال میں مصروف رہتے ہیں تا وقت کہ کوئی دوسرا راہنما دورہ نہ کر لے اس مرتبہ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے برسلز کا اہم دورہ کیا آپ کی مدد نصرت کیلئے کم و بیش 70 سیاحوں کی فوج نے آپ کا ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود بھی بے تماشا مواد چھوڑ کر گئے ہیں عام لوگ تو ایک طرف ممبر یورپین پارلیمنٹ اور فرینڈز آف پاکستان کے سربراہ سجاد کریم صاحب بھی خاصے ناراض نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کھل کر وزیراعظم کے دورہ پر تنقید کی ہے اور اس دورہ کو قطعاً ناکام اور مایوس کن قرار دیا ہے اب اس سطح کا آدمی سخت اور اس قسم کا لب و لہجہ اختیار کرلے اور دورہ کی ناکامی کا برملہ اظہار کرلے تو یقیناً کچھ نہ کچھ تو ہے ورنہ وزیراعظم کے دورہ کے متعلق سجاد کریم کو اعتماد میں نہ لینا کوئی ایسا بڑا ایشو نہیں ہے اور نہ ہی سجاد کریم سے اس وجہ پر شدید ردعمل کی توقع مناسب ہے اسلئے انہوں نے اگر حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے تو نتائج دیکھنے کے بعد ہی ایسا کیا ہے۔

بظاہر بھی ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے کہ یورپین یونین کو پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام سے خوشی ہوئی اور جو امیدیں وابستہ ہوئیں ان سے EU اب غلط پلاننگ کا شافسانہ ہے ورنہ دراصل پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جس عمدگی سے جنگ لڑی ہے دنیا کو بچایا ہے اس کیلئے اپنا بے حساب نقصان کروایا ہے اس کیلئے تو یورپین یونین سمیت دنیا بھر کو پاکستان اور پاکستانیوں کے آگے سرخم تسلیم کرنا چاہیے تھا لیکن صورتحال اگر اس کے برعکس ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ ہماری حکومت کی غلط حکمت عملی کیوجہ سے دنیا ہم سے تاحال ناخوش ہے۔

پاکستانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس کا مطلب ہوا کہ ہم اتنی قربانیاں دینے کے باوجود دنیا کو اپنے حق میں قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں جسمیں اوورسیز پاکستانی سفارتحانے اور وزارت خارجہ کی ناکام حکمت عملی سرفہرست ہے ہمارے اکثر حکمران ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے اور یہ بھی صرف دنیا کو اپنی قوم کو محض بیوقوف بنانے کیلئے ہے ورنہ پاکستان میں جو حالات ہیں بجلی کی عدم دستیابی سے مقامی چھوٹی بڑی صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

بڑے بڑے صنعتکار اپنی آنکھوں سے اجڑتے کاروبار کا تماشا دیکھ ریا ہے اب ایسی ہولناک صورتحال میں باہر سے جاکر کوئی کاروبار کا تصور کرلے اور کسی کو وہاں سرمایہ کاری کیلئے قائل کرنے کا سوچا جائے تو اس سے بڑی احمقانہ بات اور کیا ہو سکتی ہے البتہ موجودہ صورتحال میں دنیا کو یہ باور کروانے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نے پوری دنیا کے بچاؤ اور تحفظ کیلئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے اور ہم دنیا کے آرام و سکون کیلئے موت سے براہ راست لڑ رہے ہیں اسلئے ہماری قربانیاں اور عظیم کاوشوں کو اعلیٰ پیمانے پر تسلیم کیا جائے اور پاکستان کی ہر سطح پر، ہر انچ پر اور ہر قسم کی امداد کو یقینی بنایا جائے۔

اسے کسی طور احسان نہ سمجھا جائے کیونکہ ہم دنیا کے مجموعی تحفظ کیلئے برباد ہوئے ہیں ہم نے اپنا اور اپنے ملک کا ستیاناس کر لیا ہے اسلئے ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستانی راہنما دنیا میں کہیں بھی جائے اسے سر پر بٹھانا چاہیے اس کا مشکور ہونا چاہیے پاکستان کی بالخصوص خارجہ پالیسی بہر حال مطمئن ہے اور اس کی سمت درست کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ ممکنہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

قارئین کرام وزیر اعظم کا دورہ کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں کہ پاکستان ایجنسی نے وزیراعظم کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام کیا جسمیں شریک افراد کے دعوت ناموں پر شاید پہلی مرتبہ لکھا گیا کہ آپ سوٹ پہن کر آئیں اب اس کی کیا منطق ہے یہ تو ایجنسی والے ہی بتا سکتے ہیں البتہ دعوت میں شریک ہونے والوں پر الزام قرار دیا گیا کہ وہ پاکستانیت پر مٹی ڈال کر گھر سے نکلیں قومی لباس کو زیر ذہن رکھ کر آئیں اب یہ کیسے مزے کی بات ہے کہ پھر بھی لوگ گئے اور اخلاقی جرات کو دفنا کر کھانا کھایا اور پھر اب غیر اخلاقی طور پر اس پر احتجاج اور گلہ کرتے نظر آتے ہیں۔

جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے گذشتہ عشرہ ڈیڑھ سے اسی نوعیت کے مختلف پروگرام ہوتے رہے ہیں اور بیلجیم میں موجود پاکستانی اپنی حیثیت اور بساط کیمطابق لباس زیب تن کئے محفلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں بلکہ جو ایک آدھ سوٹ آنے جانے کیلئے رکھا ہوتا ہے اسی کا استعمال کیا جاتا رہا ہے پھر نہ جانے سوٹ آنے کا مضحکہ خیز مطالبہ کیوں کیا گیا یا ہو سکتا ہے انہیں مخبری ملی ہو کہ اس مرتبہ کچھ پاکستانی بنگے یا نیکریں پہن کر ظہرانہ میں شریک ہونے والے ہیں آخر ایجنسی والوں کو اپنی معلومات بھی ہوتی ہیں۔

بہر حال ہم آج تک غلامی کی ذہنیت اور زنجیروں سے چھٹکارا نہیں پا سکے سوٹ پہننا اچھی بات ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ باضابطہ پابندی لگا دی جائے کہ اگر سوٹ جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے مانا یہ محفل جواں ہے حسین ہے اسی طرح شرکائے محفل سے حلفاً اقرار لیا جاتا ہے کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے حالانکہ یہ بھی غیر ضروری ہے کہ اگر ہم اپنے حکمرانوں سے سوال نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے اور اگر کوئی غلط زبان استعمال کریگا تو وہ خود ذلیل اور بد نام ہو گا اسلئے باضابطہ حلف برداری حیران کن اور افسوسناک ہے۔

اسی طرح جب بھی کوئی مرکزی راہنما تشریف لاتا ہے تو مقامی سطح پر اس سے متعلقہ تنظیم جیمز بانڈ کو متاثر کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے اور یہ ملک کا حال ہے حسب سابق، روایت اس مرتبہ بھی سید یوسف رضا گیلانی کی آمد پر وہی طور طریقہ روا رکھا گیا پارٹی کے آدھے لوگ استقبال کرتے رہے آدھے لوگ بائیکاٹ کئے ہوئے تھے مجھے یقین ہے کہ اعلیٰ قیادت اور ذمہ داران کو ایسی صورتحال کا نجومی علم ہے لیکن چل چلاؤ کا دور ہے ان کے پاس ویسے بھی وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

مجھے امید ہے کہ اپوزیشن میں آکر اوورسیز تنظیموں کی بگڑی صورتحال کو سمبھالنے کی کوشش کی جائیگی تب تک وقت کو تو چلنا ہے وہ تو چلتا رہے گا فی الوقت زندگی کو انجوائے کرنے کی پالیسی پر کار بند رہنا ہے کل کی کیا خبر حالات کیسے ہوں آخر میں حسب عادت دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے آمین۔

تحریر : منظر عقیل حیدر
 
Share with your friends Add Comments
 
   قارءین کے تاثرات - اپنے خیالات کا اظھار کریں

 


اپنے خیالات کا اظھار کریں
Urdu       English     
نام
ای میل
سبجیکٹ
پيغام