Thursday,September 09,2010
 
نواب مرزا خان داغ
داغ کے ہاں جو چيز قاری کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرتي ہے وہ ہے قلعہ معلی کي سولہ آنے خالص زبان کا چٹخارہ،

پیرس : فنڈ ریزنگ افطار ڈنر کا اہتمام
فرانس میں محب وطن پاکستانیوں نے کثیر عطیات دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے دل اپنے پاکستانیوں کے لئے کتنے دھڑکتے ہیں۔

 

 

قوم پرویز مشرف کی واپسی کی منتظر ہے؟
2010-06-15 : تاریخ اشاعت
Share with your friends Add Comments
 
ملک کے سابق آمر صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف کیسے بھی ہیں مگر ساری پاکستانی قوم کو اِس کا اعتراف ضرور کرنا ہوگا کہ اِن میں یہ اچھائی ضرور ہے کہ وہ ملک اور قوم کے ساتھ پہلے بھی مخلص تھے اور آج بھی اُسی طرح مخلص اور وسچے ہیں جس طرح یہ اپنے دورِ حکومت میں تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ کبھی کارگل کا وسیع و عریض علاقہ جس کی اکثر چوٹیاں 16سے18ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیںجہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی30ڈگری سے بھی کم رہتاہے اوریہ علاقہ آزاد کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے کنڑول میں تھاجِسے1971کی جنگ میں بھارت نے پاکستان سے چھین لیاتھااور اِس کے ساتھ ہی اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب 1971کی جنگ میںبھارت نے دھوکے اور چالاکی سے پاکستان سے یہ علاقہ اپنے قبضے میں لے لیاتھا تو پھر بھارت کو ہی شملہ معاہدے کی روح سے پاکستان کو اِس کے کچھ ہزار قیدیوں سمیت 5ہزارمربع کلومیٹر تک کا علاقہ ٹنکے کی چوٹ پر واپس کرنا پڑا۔

کیونکہ بھارت نے اِسے انتہائی چالاکی اور دھوکے سے حاصل کیاتھا اور یہ بھی (پاکستان اور بھارت میں لکھی گئیںبے شمار )تاریخ کی کتابوں درج ہے کہ تب ہی سے ریاست جموں وکشمیر میں STATUS QUOُپر ایک ایسا سمجھوتہ عمل میں لاگیاکہ جس کے مطابق پاک بھارت افواج اُس وقت جہاں تھیں اُسے لائن آف کنٹرول قراردے دیاگیااور پھراِس معاہدے کے تحت کارگل LOCکے اِس پار بھارت کے غاصابہ کنٹرول میں چلاگیا۔

اِس حوالے سے یہ بھی کہاجاتاہے کہ جنرل ضیأ الحق مرحوم کے دور میں بھارت نے جب سیاچن پر قبضہ کیاتو غالباََ 1980میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے جنرل ضیأ الحق مرحوم نے کارگل پر قبضہ کرنے کی اپنی منصوبہ بندی کی جو کہ اندورنی اور بیرونی مخالفت اور دباؤ کی وجہ سے مؤخردی گئی۔

مگرجنرل پرویز مشرف نے دسمبر1989میں اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو کارگل آپریشن کے بارے میں بریف کیااور اِن سے اجازت لے کر کشمیر کی آزادی کے لئے پرویز مشرف نے8مئی 1999کو ''آپریشن البدر ''کے نام سے کارگل محاذ کھول دیا۔یوں کارگل کی بلندوبالا چوٹیوں پر پوزیشنیں سنبھالنے کے بعد بھارتی پوزیشنوں پر گولہ باری شروع کردی گئی جس کے نتیجے میں بھارت کو شدید جانی اور مالی نقصانات کا سامنہ کرنا پڑا۔

جس کی گواہی بھارتی فوجی جرنیل میجر جنرل اشوک کمار سہتہ نے بھارتی انگریزی اخبار دی سنڈے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون ''KARGAL FAILURE OF THE MIND''میںکچھ یوں دی ہے کہ''پاکستانی مداخلت کاروں نے بھارتی آرمی کو اتنی سرعت اور بے خبری کے عالم میں آلیا جس کا بھارتی فوج تصور بھی نہیں کرسکتی تھی اور اُنہوں نے اپنے اِسی مضمون میں آگے چل کر مزید لکھاہے کہ ''حقیقت یہ ہے کہ اِنڈین آرمی اِس قسم کے کسی بھی فوجی آپریشن کا پیشگی اندازہ لگانے میں بُری طرح سے ناکام رہی جس میں مداخلت کاروں کا نشانہ وسیع محاذتھا'' اور اِن کے بعدا َب ایک اور بھارتی فوجی نے ٹھیک گیارہ بعد کارگل جنگ کے فارمیشن کمانڈر لیفٹنینٹ جنرل ریٹائرکشن پال کاٹی وی نے اپنے ایک انٹرویو میں کارگل محاذ کے حوالے سے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اعتراف کیاہے کہ'' کارگل جنگ حقیقت میں بھارت نے نہیں جیتی۔

اُنہوں نے اِس کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ 1999میں کارگل جنگ میں587فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور1363زخمی ہوئے اوراِس حوالے سے اُنہوں نے اِس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بھارت اسٹرٹیجک لحاظ سے کارگل جنگ بُری طرح سے ہارگیاتھااور اُنہوں نے اپنے اِسی انٹرویو میںاِس کا بھی انکشاف کیا ہے کہ اِس دوران بھارت سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی ناکام رہا اِن کا کہناتھا کہ کارگل جنگ کے حوالے سے بھارتی سیاست دان اور حکمران بھی بھارتی فوج کی طرح سے بوکھلاہٹ کا شکار رہے جس کی وجہ سے بھارت کو کارگل جنگ میں ہار کا سامنہ کرناپڑا اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے گیارہ برس تک اپنی زبان بندرکھی کیونکہ اِنہیں یقین نہیں تھاکہ بھارت نے حقیقتاََ کارگل جنگ جیتی تھی۔

اگرچہ کارگل کے محاذ کے حوالے سے بھارتی فوجی جنرلوں کی جانب سے اپنی شکست اور ہار کے اعترافی بیانات کے بعد اَب ہمارے ملک میںسیاسی اور عوامی سطح پر کارگل کے منصوبہ سازوں جن میں جنرل ریٹائر پرویز مشرف سرِ فہرست تھے اِن کی نااہلی ثابت کرنے والوں کو اپنی زبانیں بھی بندرکھنی چاہیئں کہ کارگل جنگ میں پاکستان کی شکست ہوئی تھی اور بھارت کوجیت مگر بھارتی جنرلوں کے اعترافی بیانات آنے کے بعد دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہوگیاہے جبکہ حالات اِس کے بالکل برعکس تھے یعنی کہ پاکستان کی جیت ہوئی تھی اور بھارت کوذلت آمیز شکست سے دوچار ہوناپڑاتھا۔

یوں میرا بھی یہی خیال ہے کہ بھارتی فوجیوں کے اقبالی بیانات کے بعد پرویز مشرف اپنے اُوپر کارگل محاذ کے حوالے سے نااہلی اور ناکامی کے لگنے والے الزامات سے بچ گئے ہیں اور قوم کو اَب اِس بات کا بھی پورایقین ہوجاناچاہئے کہ پرویز مشرف کا کارگل محاذ کھولنے کا مقصد خالصتاََ کشمیر کی آزادی تھا جس میں وہ سُرخرو ہونے کو تھے کہ اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنتن کی مداخلت کے باعث پاکستانی وزیر اعظم کی ذراسی سی غلطی کی وجہ سے پاکستان کو کارگل کی پوزیشن سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

بہرکیف !آج دنیا پرویز مشرف کو کچھ بھی کہے مگر اِس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتاکہ وہ خالصتاََ ایک محب وطن اور غیور پاکستانی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی قوم کوپاکستان سے محبت کا درس دیااور آج بھی جب یہ خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی دیارِ غیر میں گزار رہے ہیں تو یہ وہاں سے بھی اپنے ہم وطنوں کو پاکستان سے محبت اور سرزمینِ پاک سے اپنی محبت کے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں جو اِس بات کا بھی بین ثبوت ہے کہ وہ اپنے ملک اور قوم سے کتنی محبت رکھتے ہیں جو وہ سات سمند ر پار رہ کر بھی ملک اور قوم کے لئے اِن کی بہتری اور تابناک مستقبل کے لئے کتنے پریشان ہیں۔

اِس کا انداز اُن کی اِس بے چینی اور بے قراری سے پاکستانی قوم لگاسکتی ہے کہ وہ ہر پل عوام کو پہنچنے والی تکالیف سے آگاہ ہیں۔اِن کا بس نہیں چل رہاکہ وہ موجودہ حکومت کو فوراََ ہٹاکر خود اقتدار میں 12اکتوبر 1999کی طرح آکر بیٹھ جائیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں ایک مکمل جمہوری حکومت ہونے کے باوجود بھی عوام کی ایک بری تعداد اِس حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے خائف ہے اور عوام کی اکثریت یہ کہنے پر مجبور ہے کہ اِس جمہوری حکومت سے اچھی تو پرویز مشرف جیسے آمر کی حکومت بھلی تھی جس کی پالیسیاں ملک کے غریب اور مفلوک الحال عوام کے لئے تو اچھی تھیں

اِسی خاموش عوامی حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہاہے کہ فیس بک پر مداح اِن کی وطن واپسی اور ملک میں آئین اور قومی سیاست میں اہم کردار اداکرنے کے خواہش مند ہیں ۔تاہم پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ یہ میری خوبی اور کیاکامیابی نہیں ہے کہ لوگ آج بھی مجھے پسند کرتے ہیں حالانکہ ملک میں ایک عوامی حکومت ہے مگر یہ حکومت عوام کو اُس طرح سے ریلیف دینے میں بُری طرح سے ناکام ہوگئی ہے جس طرح میں نے جِسے پاکستان مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے حامی لوگ میرا دورِ آمریت کہتے ہیں میں نے عوام کو اشیائے ضروریہ انتہائی سستے داموں اِن کی دہلیز تک پہنچائی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ صرف پانچ ماہ کے مختصر سے عرصے میں ایک سماجی نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر میرے مداحوں کی تعداد 2لاکھ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے جس 18سے 34سال کی عمر کے وہ80فیصد لوگ شامل ہیں جو قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں یہ لوگ مجھے چاہتے ہیں۔اِن کا کہناہے کہ اگر عوام میراساتھ دیں تو میں عوام کو مہنگائی بھوک و افلاس اور کرپشن سمیت ملک میں ہونے والی دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے بھی پاکستان جلد آکر نجات دلواسکتاہوں۔

اَب پرویز مشرف کے اِس عندے اور عوامی حمایت کے بعد ہمارے موجودہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کو یہ ضرور سوچناچاہئے کہ اُنہوں نے عوام کے لئے کیا....کیا ہے؟کہ عوام ایک جمہوری حکومت کے ہونے کے باوجود بھی پرویزمشرف جیسے آمر کو ملک کی دوبارہ حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

بہرحال ! ملک کے سابق آمر صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف کیسے بھی ہیں مگر ساری پاکستانی قوم کو اِس کا اعتراف ضرور کرنا ہوگاکہ اِن میں یہ اچھائی ضرور ہے کہ وہ ملک اور قوم کے ساتھ پہلے بھی مخلص تھے اور آج بھی اُسی طرح مخلص اور وسچے ہیں جس طرح ٰیہ اپنے دورِ حکومت میں تھے۔

تحریر : محمداعظم عظیم اعظم

 
Share with your friends Add Comments
 
   قارءین کے تاثرات - اپنے خیالات کا اظھار کریں

 


اپنے خیالات کا اظھار کریں
Urdu       English     
نام
ای میل
سبجیکٹ
پيغام