فرانس میں محب وطن پاکستانیوں نے کثیر عطیات دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے دل اپنے پاکستانیوں کے لئے کتنے دھڑکتے ہیں۔
کوئی پتھر سے نہ مارے ہمارے دیوانوں کو
2010-01-09 : تاریخ اشاعت
خبردار ! کوئی پتھر سے نہ مارے ہمارے دیوانوں کو۔۔۔۔۔۔ امریکا؟ امریکاکا انتباہ ! پاکستان میں ہمارے سفارتی اہلکاروں کوہراساں کرنا بندکیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ امریکا پاکستان سے متعلق اپنے رویوں میں مثبت تبدیلیاں لائے۔
میں اپنے آج کے کالم کی ابتدا برٹرنڈر سل اور کارنیگی کے دو علیحدہ علیحدہ اقوال سے کرناچاہوں گا کہ جو سمجھنے والوں کے ہے '' اگر ہم برائیوں کا انسدادکرنا چاہتے ہیںتو خود کوئی ایساکام نہ کریں جس کا شمار برائی کے زمرے میں ہوتاہو''...... اور اِسی طرح''اکثر لوگ اپنے ہی متعلق سوچتے رہتے ہیں۔
کسی کی موت کی خبر کی نسبت اپنے معمولی سردرد کے متعلق زیادہ تشویش کا اظہارکرتے ہیں''جس طرح ایک خبرجوگزشتہ دنوںایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل سے ٹیلی کاسٹ کی گئی جس کے مطابق 6 جنوری 2010 بروز بدھ کو امریکی قونصل جنرل کی کراچی نمبرپلیٹ کی لینڈ کروزر گاڑی کوتربت سے گوادرجاتے ہوئے اِسے پہاڑوں میں سفر کے دوران اُس وقت (گرفتارکرلیا)حراست میں لیا گیاجب اِس میں سوار دو پاکستانی اہلکار اور سندھ پولیس کے کانسٹیبل امریکی ترقیاتی اعانت کے عملے کی جانب سے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں دورے کے سسلسلے میں وہاں تیاری میں مصروف تھے ۔
اِس خبر کے بعدہم پاکستانی عوام میں ذراسی یہ اُمید ضرور پیداہوئی کہ اُب پاکستان میں قانون کی بالادستی پوری طرح سے قائم ہونے کو ہے اوراِس واقع نے یہ ثابت کردیاہے کہ آج 62سال بعد پاکستان میں پاکستانی پولیس نے کسی امریکی سے بھی اِسی طرح سے پوچھ پاچھ اور پوچھ کچھ کی ہے جس طرح پاکستانی پولیس گزشتہ نصب صدی سے اپنے ہی پاکستانی بھائیوں کو پکڑ کر کیاکرتی ہے اور اِس کے ساتھی ہی عوام میں یہ بھی حوصلہ پیداہواکہ اَب ملک میں سب برابر ہیںاور کو ئی خاص و عام نہیں رہا اور اَب ملک سے امتیازی قانون ختم ہوگیا ہے جیسا پہلے کبھی ہوتارہاہے کہ خاص آدمی کچھ بھی کرلے وہ بچ نکلتاتھا اور ماراجاتاتھا بیچارہ ایک عام اورغریب آدمی....
مگر یہ کیا کہ گزشتہ دنوں پاکستانی پولیس کا یہ ایک اچھا عمل رہاکہ اِس نے امریکی قونصل جنرل کی گاڑی اور اِس میں سوار اہلکاروں کو بھی اِسی طرح سے حراست میں لیا جس طرح پاکستانی پولیس پاکستانیوں کو بلاامتیاز و رنگ و نسل اِنہیںگُدیوں سے پکڑکر حراست میں لے لیتی ہے جن میں سے بعض کو تو کچھ مک مکاکرکے چھوڑ دیتی ہے اور کچھ کو بلاکسی قصور اور جرم کے پابند سلاسل کردیتی ہے جو بیچارے اپنی ساری ساری عمر بے گناہی کے سبب جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاردیتے ہیں۔
بہرکیف ! اَبھی چھوڑیںاِن باتوں کو یہ ایک الگ بحث ہے اِسے پھر کسی کالم کے لئے لگ دیتے ہیںاور اَب ہم آتے ہیں اپنے اصل مُوضوع کی طرف جس نے مجھے اپنا آج کا یہ کالم لکھنے پر متحرک کیا اور مجھ میں یہ ہمت پیداکی کہ میں امریکیوں کی عیاری اور مکاری دنیاکے سامنے عیاں کروں کہ امریکاجو آج اپنے آپ کو ہر مرض کی دواتصور کئے بیٹھاہے اِس کی اصلیت کیا ہے اور یہ خود اپنے آپ کوایسے روکھے پھیکے اور بے تکے رویوں کے سبب جلد ہی اپنی تباہی اور بربادی کے دہانے پر لے جارہاہے اور اگراِس نے اپنی روش نہ بدلی تو یقینا عنقریب ہی امریکا تباہ ہوجائے گا۔
بہرحال !مگر اِس کے ساتھ اگلے ہی روز سرکاری اور کئی نجی ٹی وی چینلز پر یہ خبر آنے کے بعد عوام کو سخت مایوسی ہوئی کہ جب امریکی حکام نے سات سمندر پار سے پاکستانی پولیس کے ہاتھوں اپنے اہلکاروںکی حراست میں لئے جانے کے عمل کو اپنی تضحیک جان کر حکومت پاکستان سے اپنے غصے کااظہار کچھ اِس طرح سے کیا کہ پاکستانی حکمران کانپ کررہ گئے اور پاکستانی قوم اور شائد دنیا کے دیگر مہذب ممالک بھی اِس امریکی روے پر ششدر رہ گئے کہ وہ امریکاجو اپنے یہاںتودوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگوں سے اپنے قانون کی پاسداری کے لئے اتناکچھ کراتاہے کہ کوئی دوسرا اِس کے ملک میں اِس کے قانون کی خلا ف سانس میں نہیں لے سکتا ۔
مگریہ کیاوجہ ہے ؟کہ وہ امریکاجوقانون کی اہمیت سے تواچھی طرح واقفیت رکھتا ہے اور اپنے یہاں دنیاکے دیگر ممالک سے آنے والوںسے اپنے قانون کی اِن کے ہاتھوںزبردستی پاسداری کراتاہے... کیا یہی وہ امریکاہے کہ جس نے پاکستان کے قانون کی دھجیاں اِس طرح سے بکھیر دی ہیں کہ کسی کو یہ یقین نہیں آرہاکہ امریکا کیا ایسا بھی کرسکتاہے .....؟جس نے پاکستان میںمحض اپنے سفارت کاروں کی حراست میں لئے جانے کے عمل پر حکومت ِپاکستان کاوقف سُننے بغیراِسے بتنگڑ بنا دیا؟
اور وہ امریکا جس کے نزدیک اِس کا اپناقانون تو قانون ہے اور کسی دوسرے ملک کے قانون کی کیاکوئی حیثیت نہیں..... ؟کہ کوئی دوسرا ملک اپنے ہی زمین میں کسی امریکی کو اِس کی غیر قانونی حرکات و سکنات پر اِس سے پُوچھ کُچھ بھی نہ کرسکے ؟ اورکیا امریکی دنیا بھر میں اتنے مقدس ہیں کہ یہ دنیا کے جس ملک میں جو چاہیں کرتے پھریں ؟اورکوئی اِن سے پُوچھے والا نہیں اور جہاں چاہیں اپنا منہ اٹھاکر چلتے بنیں اُس ملک کے قانون کا اطلاق اِن پر نہیں ہوگا؟
جی ہاں!یہ وہ ہی امریکاہے جواِن دنوں اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈمیں چُورچُور ہے اور جس نے دنیابھر میںمگرپاکستان میں بالخصوص جواپنی داداگیری (بدمعاشی)قائم کررکھی ہے اِس سے انکار کرنا ہمارے حکمرانوں کے لئے اُس وقت ممکن نہیں رہا کہ جب اِس کے پاکستان میںمتعین امریکی سفارتی مشن اورامریکی سفیراین ڈبلیو پپیٹرسن نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ'' کوئی پتھر سے نہ مارے ہمارے دیوانوںکو''خبر یہ ہے کہ امریکی سفیر نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو انتباہ کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی سفارتی گاڑیوں اور اہلکاروں کو وجہ اور بلاوجہ روکنا اوراِس میں سوار افراد کو مشتعل کرنے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکنے کے لئے موثر طور ر کارروائی کی جائے۔
اور اِس کے ساتھ ہی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے غصے سے اپنا گلا پھاڑتے ہوئے چیخ کرکہاہے کہ امریکاکو(ہمیں)پاکستان میں اپنے اہلکاروں کے ساتھ پیش آنے والے اِس قسم کے رویوں اور سلوک سے پیداہونے والی صورتِ حال پر سخت تشویش ہے اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ غیر ملکی (خاص طور پر امریکی) سفارت کاروں کی سلامتی کو درپیش تحفظات اور اِس طرح کی اور دوسری تشویش کو ختم کرنے کی پابندہے۔
اوراِس کے ساتھ ہی اُدھر ایک خبر یہ بھی ہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں امریکی سینیٹر جان مکین کی قیادت میں امریکیوں کے ایک وفد نے بھی وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سے ملاقات کے دوران اپنے سفارت کاروں اور اہلکاروں کو پاکستان میں ہراساں کئے جانے کے واقعہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جبکہ اِس امریکی ردِعمل کے بعدوزیراعظم اور حکومت پاکستان نے خاموشی سے اپنا سرخم کرتے ہوئے امریکی وفد کو یہ یقین دلایا کہ ہم اپنے اہلکاروں کو متنبہ کریں گے کہ آئندہ وہ کسی بھی امریکی کو کسی بھی صورت میں ہراساں نہیں کریں جس سے ہمارے آقا (امریکا) کو کوئی ٹھیس پہنچے اور ہماری حکومت کے لالے پڑجائے۔اور امریکی امداد بند ہوجائے۔
اگرچہ یہ اور بات ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی اور حکومت پاکستان کے دیگر اراکین نے امریکی سینیٹر جان مکین کواِس موقع پر یہ باور کرایا کہ امریکا کی جانب سے ڈرون اور سول ایٹمی ٹیکنالوجی پاکستان کو دیئے جانے کے عمل میں ہچکچاہٹ کا مظاہر کرنے پر پاکستان میں بے شمار تحفظات پیداہو رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانیوں کا امریکیوں پرسے اعتماد ختم ہورہاہے۔
میرے خیال سے حکومتی اراکین نے امریکیوں پر یہ بھی واضح کیاکہ پاکستان اپنے وعدے کے مطابق امریکاسے اپنی دوستی کی پاداش میں اِس کی جانب سے آنے والے ہر اچھے اور بُرے حکم کی تکمیل کے خاطر پیش پیش ہے مگر کیاہی اچھاہے کہ امریکا بھی ہماری مجبوریوں کو سمجھے اور ہمارے ساتھ صرف اتناہی کچھ کرے کہ جتنا ہم برداشت کرسکیں۔
اور ہم پراِسے احکامات جاری نہ کرے کہ جس سے حکومت اپنے عوام کو مطمئین نہ کرسکے اور اِس طرح حکومت اور عوام میں دوریاں پیدا ہواورجس کے باعث حکومت اور امریکا کے درمیان بھی کو ئی خلش پیداہو۔اور امریکا کو اپنے اِن رویوں میں ضرور تبدیلی لانی ہوگی جس کی وجہ سے بالخصوص پاکستانی عوام میں امریکا کے لئے نفرت کے جذبات جنم لے رہے ہیں۔