اوورسیز پاکستانیز دنیا میں جہاں کہیں بھی مقیم ہیں آفت کی اس گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ ہم وطنوں کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے انکی مددکیلئے جان توڑکوششیں کرکے متاثرین سیلاب کیلئے خوارک ، کمبل، ادویات ، کپڑے اور نقد امدا دکھٹے کر رہے ہیں۔فرانس میں مقیم تارکین وطن بھی سیلاب متاثرین کیلئے انفرادی طور پر ایسوسی ایشنز کے پلیٹ فارم سے اس نیکی کے کام میں مشغول ہیں۔
اسلام آباد : ایچ ای سی کی آئینی حیثیت چیلنج
2010-07-28 06:38:59
: تاریخ اشاعت
پیپلز پارٹی کے رکن رانا اعجاز احمد نون کی ڈگری بھی جعلی قرار
اسلام آباد : رکن بلوچستان اسمبلی سردار یار محمد رند اور پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن رانا اعجاز احمد نون کی ڈگری بھی جعلی قرار پائی ہے، ایچ ای سی نے آج وائس چانسلرز کا اجلاس طلب کرلیا جبکہ وفاقی وزیر تعلیم نے ایچ ای سی کی آئینی حیثیت کو چیلنج کردیا۔
ایچ ای سی نے ڈگریوں کی تصدیق کے لئے یونیورسٹیوں کو ستائیس جولائی کی ڈید لائن دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اب تک صرف کراچی یونیورسٹی نے تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل مکمل کیا ہے جبکہ سندھ یونیورسٹی کی طرف سے ایک سو آٹھ ارکان کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سندھ یونیورسٹی نے ڈگریوں کی تصدیق کے لئے مزید چار ماہ کی مہلت مانگی ہے تاہم ایچ ای سی نے مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے مشکوک اور نامکمل ڈگریوں کے حامل ارکان اسمبلی سے خود تعلیمی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔الیکشن کمیشن نے ایچ ای سی سے نامکمل ڈگری ہولڈر ارکان اسمبلی کی تازہ ترین فہرست مانگ لی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئر مین عابد شیر علی نے کہا ہے کہ جعلی ڈگری والے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کے لئے وہ جلد ہی ایک ریفرنس الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کو روانہ کریں گے تاکہ پارلیمنٹ کو جعلی ڈگری سے پاک کیا جاسکے۔
دوسری طرف اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرتعلیم سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ ایچ ای سی سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کی طرح آئینی ادارہ نہیں۔ عابد شیر علی اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کا قائمہ کمیٹی کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ ایچ ای سی نے بھی ڈگریوں کی تصدیق کے لئے وزیراعظم سے اجازت نہیں لی۔