فرانس میں محب وطن پاکستانیوں نے کثیر عطیات دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے دل اپنے پاکستانیوں کے لئے کتنے دھڑکتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر : تاجر اقتصادی بحران کا شکار
2010-07-28 06:48:22
: تاریخ اشاعت
برطانیہ کے وزیر خزانہ بھارت سے خصوصی تجارتی تعلقات کیلئے ممبئی پہنچ گئے
سرینگر: دو سال پہلے مقبوضہ کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کرنے والے جموں کے تاجر اور سرمایہ دار مقبوضہ وادی میں تین ہفتے سے جاری ہڑتالوں اور کرفیو سے خود اقتصادی بحران کا شکار ہوگئے۔ دو سال پہلے جموں کی ہندو کمیونٹی نے مقبوضہ کشمیر سے فروٹس اور سبزیوں کی بھارت منتقلی روک دی تھی جس کی وجہ سے فوجی آپریشن سے متاثرہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو شدید معاشی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ پاکستان کی طرف مارچ کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
اس دوران بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے حریت رہنما عبدالعزیز سمیت کئی کشمیری شہید ہوگئے تھے۔ لیکن اس بار معاملہ کچھ الٹ ہوگیا سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے تنگ کشمیریوں نے احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا تو بھارتی فوج نے کرفیو نافذ کردیا۔ تین ہفتے سے جاری اس صورتحال سے مقبوضہ جموں کے تاجر مال کی آمد رک جانے کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
ہندو اکثریتی علاقے جموں کی زیادہ تر تجارت کا انحصار مقبوضہ کشمیر سے آنے والی سبزیوں گندم چاول اور فروٹ پر ہے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے ان کا سرمایہ پھنس گیا ہے اور وہ رونے پر مجبور ہیں۔
دوسری طرف برطانیہ کے وزیر خزانہ بھارت سے خصوصی تجارتی تعلقات کے لئے ممبئی پہنچ گئے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی کل اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ کل بھارت پہنچ رہے ہیں۔ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے دورہ بھارت کے موقع پر کشمیریوں کے حق میں بیان سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔