اوورسیز پاکستانیز دنیا میں جہاں کہیں بھی مقیم ہیں آفت کی اس گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ ہم وطنوں کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے انکی مددکیلئے جان توڑکوششیں کرکے متاثرین سیلاب کیلئے خوارک ، کمبل، ادویات ، کپڑے اور نقد امدا دکھٹے کر رہے ہیں۔فرانس میں مقیم تارکین وطن بھی سیلاب متاثرین کیلئے انفرادی طور پر ایسوسی ایشنز کے پلیٹ فارم سے اس نیکی کے کام میں مشغول ہیں۔
فضائل جمعہ
حدیث: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گنا معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دوران خطبہ ان سے کھیلتا رہا یا ہاتھ، چٹائی، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا( اور اس کی وجہ سے جمہ کا خاص ثواب ضائع کردیا)۔( رواہ مسلم، رقم 1988)
حدیث: حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا: مسلمانو، اللہ تعالی نے اس دن کو تمہارے لئے عید کادن بنایا ہے اس دن غسل کیا کرو اور مسواک کا اہتمام کیا کرو۔
حدیث : حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل گناہوں کو بالوں کی جڑوں تک سے نکال دیتا ہے۔
حدیث: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں اسی طرح آنئے والوں کے نام ان کے آنے کی تربیت سے لکھتے رہتے ہیں)۔ جو جمعہ کی کے لئے سویرے جاتا ہے اسے اونٹ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ اس کے بعد آنے والے کا گائے صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
اس کے بعد آنے والے کو مینڈھا،اس کے بعد والے کو مرغی، اس کے بعد آنے والے کو انڈا صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ جب امام خطبہ دینے کے لئے آتا ہے تو فرشتے وہ رجسٹر( جن میں آنے والوں کے نام لکھئے گئے ہیں) لپٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔